نئی دہلی،22/مارچ (ایس او نیوز) ہندوستان میں تیزی سے پھیل رہے کورونا وائرس کا اثر ہر کام پر پڑتا نظر آ رہا ہے-یہاں تک کہ سینسس اور این پی آر میں بھی تاخیر ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے-
سینسس اور این پی آر کا پہلا مرحلہ یکم اپریل سے شروع ہو کر ستمبر تک چلنا تھا، لیکن کورونا وائرس کے سبب ایسا لگ رہا ہے کہ اس میں تاخیر ہو سکتی ہے- ریاستوں کو یکم اپریل سے سینسس کا کام شروع کرنا تھا، لیکن موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں لگ رہا-
وزارت داخلہ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے یکم اپریل کی تاریخ کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے-وزارت کا کہنا ہے کہ مردم شماری کرنے والے افسروں کی کمی کی وجہ سے یہ عمل سست پڑ سکتا ہے-ایسے میں وزارت سینسس اور این پی آر کے لئے دیگر راستے تلاش رہا ہے، جس سے مردم شماری کی جا سکے-
کورونا وائرس کے باوجود مردم شماری اور این پی آر کے لئے اگر خود سے مردم شماری کا طریقہ اپنایا جاتا ہے تو اس سے درست اعداد و شمار نہیں مل پائیں گے-
بتا دیں کہ مردم شماری کے لئے خود سے ایپ کے ذریعے بھی ڈیٹا دیا جا سکتا ہے، جس کا اہتمام کیا گیا ہے- تمام کوششوں کے درمیان ایک چیز تو صاف نظر آتی ہے کہ اس بار سینسس اور این پی آر میں تاخیر ہونا طے ہے-